مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بغداد میں اعلیٰ عراقی حکام سے ملاقاتوں کے دوران عراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی سے گفتگو میں عراق اور ایران کے درمیان سلامتی تعاون، سرحدی تحفظ اور انسداد دہشت گردی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
عراقی عہدیدار نے دہشت گردی اور داعش کے خلاف جنگ میں ایران کی حمایت کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے شہید جنرل قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المهندس کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔
عراقچی نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو پورے خطے کے خلاف جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے متعدد مواقع پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ خطے کے ممالک باہمی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر ایسا علاقائی سلامتی نظام تشکیل دیں جو دیرپا امن، استحکام اور ترقی کو یقینی بنائے اور جس میں بیرونی فوجی مداخلت کی کوئی گنجائش نہ ہو۔
انہوں نے خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے ساتھ سلامتی، اقتصادی تعاون اور ترقیاتی شراکت داری پر مشتمل مشترکہ علاقائی فریم ورک کے قیام کے لیے ایران کی آمادگی کا بھی اظہار کیا۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں عراقچی نے کہا کہ ایران اپنی ذمہ داریوں کے مطابق ضروری اقدامات کرے گا اور معاہدے کی شق 5 کے تحت عمان سمیت دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مشاورت جاری رکھے گا۔
دونوں فریقین نے سرحدی سلامتی اور دوطرفہ سلامتی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے ذریعے دہشت گردی کے انسداد کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
آپ کا تبصرہ